Qur'an&Sunnah

حدیث کیا ہے اور اس کی صحت کیسے پرکھی جاتی ہے؟

آپ کا سوال حدیث کے بارے میں ہے، جو کہ اسلام کے بنیادی مآخذ میں سے ایک ہے۔ میں آپ کی رہنمائی کے لیے حاضر ہوں۔

حدیث کیا ہے؟

حدیث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات (آپ کی موجودگی میں ہونے والے کاموں پر آپ کی خاموشی یا منظوری) کو کہتے ہیں۔ یہ اسلام کی دوسری سب سے اہم دلیل ہے، قرآن مجید کے بعد۔ علماء کے نزدیک حدیث کی صحت پرکھنا ایک اہم علم ہے تاکہ صحیح اور غیر صحیح روایات میں فرق کیا جا سکے۔

حدیث کی اقسام اور صحت کا معیار:

علماء نے حدیث کو صحت کے اعتبار سے مختلف اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:

  1. صحیح حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس کا سلسلہ سند (راویوں کا سلسلہ) شروع سے آخر تک متصل ہو، اور اس کے تمام راوی عادل (قابل اعتماد) اور ضابط (حافظے کے مضبوط) ہوں۔ اس میں کوئی شذوذ (تنہا روایت کرنا جو دوسروں کے خلاف ہو) یا علت (چھپی ہوئی بیماری جو صحت کو نقصان پہنچائے) نہ ہو۔ امام مسلم رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح حدیث وہ ہے جس کا سلسلہ سند متصل ہو اور راوی ثقہ ہوں، اور وہ شذوذ اور علت سے پاک ہو۔ (المنهاج، ج 1، ص 14-15)۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط اس سے قدرے مختلف ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے بعض احادیث بخاری میں ہوں اور مسلم میں نہ ہوں، یا اس کے برعکس۔ (المنهاج، ج 1، ص 18-20)۔

  2. حسن حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس کے راویوں میں صحت کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں، مگر ان کے ضبط (حافظے) میں صحت کی شرط پوری نہ اترتی ہو۔ یا یہ کہ اس کا مخرج (روایت کا ماخذ) معلوم ہو اور اس کے رجال (راوی) مشہور ہوں۔ یہ حدیث اکثر احادیث کا مدار ہے اور اکثر علماء اسے قبول کرتے ہیں۔ (المنهاج، ج 1، ص 26-28)۔

  3. ضعیف حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس میں صحیح یا حسن حدیث کی شرائط میں سے کوئی شرط پوری نہ ہو۔ ضعیف حدیث کی بھی مختلف اقسام ہیں، جیسے موضوع (من گھڑت)، مقلوب (الٹ پلٹ کر دی گئی)، اور مجہول (جس کے راوی معلوم نہ ہوں)۔ (المنهاج، ج 1، ص 26-28)۔

حدیث کی صحت پرکھنے کے اصول:

حدیث کی صحت پرکھنے کے لیے علماء نے کئی اصول وضع کیے ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں:

  • سند کا اتصال: سند کا شروع سے آخر تک متصل ہونا ضروری ہے، یعنی ہر راوی نے اپنے شیخ سے براہ راست سنا ہو۔ (المنهاج، ج 1، ص 14-15)۔
  • راویوں کی عدالت: راویوں کا مسلمان، عاقل، بالغ، فاسق نہ ہونا اور ان کی شہرت خیر پر ہونا ضروری ہے۔ (المنهاج، ج 1، ص 26-28؛ الأصول من علم الأصول، ص 343-345)۔
  • راویوں کا ضبط: راوی کا حافظہ مضبوط ہونا چاہیے، تاکہ وہ جو روایت کرے وہ صحیح ہو۔ (المنهاج، ج 1، ص 14-15؛ الأصول من علم الأصول، ص 348-350)۔
  • شذوذ سے پاکی: حدیث کا متن یا سند میں منفرد (شاذ) نہ ہونا۔ (المنهاج، ج 1، ص 14-15)۔
  • علت سے پاکی: حدیث میں کوئی چھپی ہوئی بیماری (علت) نہ ہو جو اس کی صحت کو متاثر کرے۔ (المنهاج، ج 1، ص 14-15)۔

ائمہ کرام نے ان اصولوں کی بنیاد پر احادیث کی صحت کو پرکھا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی ثقہ راوی کسی ثقہ راوی سے روایت کرے یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے، تو وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوتی ہے۔ (الرسالة، ص 393-402)۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جھوٹ بولنے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (المستدرك على الصحيحين، كتاب العلم، باب التحذير من الكذب على رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم؛ الرسالة، ص 372-378)۔

مآخذ

جوابات صرف کلاسیکی عوامی مآخذ پر مبنی ہیں اور انہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ذاتی مسائل کے لیے کسی اہل عالم سے رجوع کریں۔

سوالات