اخلاص، دین اسلام میں ایک نہایت اہم موضوع ہے، اور اس کے بارے میں جاننے کی آپ کی خواہش قابل تحسین ہے۔
اخلاص کیا ہے؟
اخلاص کا معنی ہے کسی بھی عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرنا، اس میں کسی قسم کی دنیاوی غرض، شہرت، یا لوگوں کی تعریف کی آمیزش نہ ہو۔ یہ دل کی پاکیزگی اور اللہ کے ساتھ سچے تعلق کا نام ہے۔
- تعریفات:
- حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑ دینا ریا (نمائش) ہے، اور لوگوں کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔ اخلاص یہ ہے کہ تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے ان دونوں (ریا اور شرک) کی وجہ سے مواخذہ فرمائے گا۔" (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 110)
- حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اخلاص یہ ہے کہ عمل کو عیوب سے پاک کیا جائے، جیسے دودھ کو گوبر اور خون سے الگ کیا جاتا ہے۔" (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 110)
- امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اخلاص کی دو قسمیں ہیں: عمل کا اخلاص اور اجر کے طلب کا اخلاص۔ عمل کا اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے اور اس کے حکم کی تعظیم کی نیت سے عمل کیا جائے۔ (الغزالی - منہاج العابدین، صفحہ 224)
- حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اخلاص اعمال کو کدورتوں سے پاک کرنا ہے۔ (الغزالی - منہاج العابدین، صفحہ 225)
- حضرت حذیفہ مرعشی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اخلاص یہ ہے کہ بندے کے اعمال ظاہر اور باطن میں برابر ہوں۔ (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 110)
- حضرت ابو عثمان مغربی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عوام کا اخلاص یہ ہے کہ نفس کے لیے کوئی حصہ نہ ہو، جبکہ خواص کا اخلاص یہ ہے کہ ان سے اطاعتیں صادر ہوں اور وہ ان سے بے خبر ہوں، اور ان پر کوئی نظر نہ ہو اور نہ ہی وہ اس پر اعتماد کریں۔ (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 111)
اخلاص کی اہمیت:
اخلاص دین کی بنیاد ہے اور اعمال کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔ بغیر اخلاص کے کیے گئے اعمال اللہ کے نزدیک کوئی وزن نہیں رکھتے۔
- قرآنی دلائل:
- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، یکسو ہو کر اسی کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھا دین ہے۔" (البینۃ: 5) (ابو طالب المکی - قوت القلوب، جلد 2، صفحہ 266)
- احادیث نبویہ ﷺ:
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں جن سے مسلمان کا دل کبھی بھی خیانت نہیں کرتا: عمل کا اخلاص اللہ کے لیے، حکمرانوں کی خیر خواہی، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔" (ابن ماجہ - سنن، حدیث 230، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی)
- نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔" (بخاری و مسلم - متفق علیہ) (ابو طالب المکی - قوت القلوب، جلد 2، صفحہ 266)
- اعمال کی قبولیت:
- امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بغیر نیت کے عمل تھکاوٹ ہے، اور بغیر اخلاص کے نیت ریا ہے، اور ریا منافقت کے برابر ہے۔" (الغزالی - احیاء علوم الدین، جلد 4، صفحہ 361)
- اگر عمل میں ریا یا دنیاوی غرض شامل ہو جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بے کار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ہم نے ان کے اعمال کی طرف رجوع کیا جو انہوں نے کیے تھے، تو انہیں بکھرے ہوئے غبار کی طرح بنا دیا۔" (الفرقان: 23) (الغزالی - احیاء علوم الدین، جلد 4، صفحہ 361)
- امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک، ریا محض اعمال کی قبولیت کو ختم کر دیتا ہے اور ثواب کو کم کر دیتا ہے۔ (الغزالی - منہاج العابدین، صفحہ 226)
اخلاص کی علامات:
- تعریف اور مذمت میں برابر رہنا۔ (ذوالنون المصری رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق) (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 111)
- اپنے اعمال کو بھول جانا۔ (ذوالنون المصری رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق) (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 111)
- آخرت میں عمل کا ثواب طلب کرنا۔ (ذوالنون المصری رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق) (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 111)
- لوگوں کی نظروں سے اعمال کو چھپانا، جیسے اپنی برائیوں کو چھپاتے ہو۔ (ابو ایوب المكفوف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق) (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 110)
- نفس کے لیے کسی حصے کی خواہش نہ کرنا۔ (ابو عثمان المغربي رحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق) (عبد القادر جیلانی - الغنیۃ، جلد 2، صفحہ 111)
اخلاص ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تمام اعمال کو صرف اللہ کی رضا کے لیے خالص کرنے کی کوشش کریں اور اس میں دنیاوی غرض کو شامل نہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کی دولت سے نوازے۔ آمین۔