آپ کا سوال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے، جو کہ اسلام کے مرکزی شخصیت ہیں۔ آپ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں گا، جو کہ فراہم کردہ مستند اسلامی ذرائع پر مبنی ہوگا۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟
اہلِ اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم، اللہ کے رسول، تمام رسولوں کے سردار اور خاتم النبیین (انبیاء کا سلسلہ ختم کرنے والے) ہیں۔ آپ کو تمام انسانوں اور جنات کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
- "اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے صرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔" (سبا: 28)
- "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔" (الانبیاء: 107)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیاء پر فضیلت دی ہے۔ آپ کو تمام انسانیت کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (عبد القادر جیلانی، الغنیہ، ص 155)
آپ کا نسب اور فضیلت:
اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی میں سے ابراہیم علیہ السلام کو چننا، پھر ان کی نسل میں سے اسماعیل علیہ السلام کو، پھر اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے کنانہ کو، پھر کنانہ میں سے قریش کو، پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو، اور پھر بنی ہاشم میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا۔ (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ص 5)
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ کا نسب نامہ محفوظ ہے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ص 4)
آپ کی نبوت اور رسالت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے رحمة للعالمین اور تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ص 230) اللہ تعالیٰ نے آپ سے پہلے کے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، ص 233)
آپ کی خصوصیات اور معجزات:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیگر انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئیں: آپ کو جوامع الکلم (کم الفاظ میں زیادہ معنی بیان کرنے کی صلاحیت) عطا کی گئی، آپ کو رعب کے ذریعے مدد دی گئی، آپ کے لیے غنائم (مال غنیمت) حلال کی گئیں، آپ کے لیے زمین کو طہارت اور مسجد بنایا گیا، آپ کو تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، اور آپ کے ذریعے نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ص 428)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے۔ یہ عربی زبان کے تمام علوم و فنون سے بالاتر، فصاحت و بلاغت کا ایسا شاہکار ہے کہ عرب کے سب سے بڑے فصحاء بھی اس جیسی ایک سورت لانے سے عاجز آ گئے۔ (عبد القادر جیلانی، الغنیہ، ص 155) دیگر معجزات میں انگلیوں سے پانی کا چشمہ پھوٹنا، قلیل کھانے سے کثیر افراد کا سیر ہونا، چاند کا دو ٹکڑے ہونا، اور درخت کا آپ کے پاس آنا شامل ہیں۔ (عبد القادر جیلانی، الغنیہ، ص 155)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال ایک ایسے شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے خوبصورت اور مکمل کیا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے۔ لوگ اس گھر کے گرد گھومتے اور اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے اور کہتے: کاش یہاں ایک اینٹ لگا دی جاتی۔" پھر آپ نے فرمایا: "پس میں وہی اینٹ ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں۔" (مسلم، صحیح مسلم، ص 22)
آپ کا اخلاق:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم دل، رحیم اور شفیق تھے۔ آپ کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، سوائے اللہ کی راہ میں جہاد کے۔ آپ نے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا، مگر جب اللہ کی حرمت پامال ہوتی۔ آپ نے فرمایا: "مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔" (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ص 163) آپ کی سیرت، آپ کے اقوال و افعال، اور آپ کا حسنِ سلوک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ (غزالی، احیاء العلوم الدین، ص 364)