آپ کا سوال بہت اہم ہے اور زندگی کے مقصد کے بارے میں قرآن مجید کی تعلیمات کو سمجھنے کی خواہش قابل تحسین ہے۔ قرآن مجید اس سوال کا واضح اور جامع جواب دیتا ہے۔
زندگی کا مقصد: اللہ کی عبادت
قرآن مجید کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
- سورۃ الذاریات (آیت 56): "وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون"
- تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس کی عبادت کریں، نہ کہ اس لیے کہ اللہ کو ان سے کوئی نفع یا رزق کی ضرورت ہو۔ بلکہ وہ خود سب کا رزاق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 423)
- تفسیر طبری میں اس آیت کے حوالے سے مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں، جن میں ایک قول یہ ہے کہ اللہ نے جن و انس کو اپنی بندگی اور اپنے حکم کے سامنے جھکنے کے لیے پیدا کیا۔ (تفسیر طبری، جلد 21، صفحہ 555)
- تفسیر قرطبی میں اس آیت کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن و انس کو اپنی عبادت کا حکم دینے کے لیے پیدا کیا۔ (تفسیر قرطبی، جلد 17، صفحہ 55)
عبادت کا مفہوم اور اس کی اہمیت:
- عبادت کا اصل مقصد: علامہ رازی نے اپنی تفسیر "مفاتیح الغیب" میں بیان کیا ہے کہ حقیقی خسارہ اللہ کی خدمت سے محروم رہنا ہے۔ جبکہ جنت سے محرومی یا جہنم میں جانا اس کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت اور اس کی رضا کے کام کرنا زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ (مفاتیح الغیب، جلد 32، صفحہ 82)
- عبادت کا وسیع مفہوم: بعض مفسرین نے "لیعبدون" کا معنی "لیعرفون" (مجھے پہچانیں) بھی بیان کیا ہے۔ یعنی اللہ نے ہمیں اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہم اسے پہچانیں، اس کی وحدانیت کا اقرار کریں اور اس کی عظمت کو سمجھیں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 424)
- اللہ کی رحمت اور استقامت: سورۃ التکویر کی آیات (27-29) میں فرمایا گیا ہے: "إن هو إلا ذكر للعالمين لمن شاء منكم أن يستقيم وما تشاءون إلا أن يشاء الله رب العالمين" یعنی یہ (قرآن) تمام جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے، تم میں سے اس کے لیے جو سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہے۔ اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ رب العالمین چاہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت اور سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لیے اللہ کی مشیت اور توفیق ضروری ہے۔ (تفسیر رازی، جلد 31، صفحہ 68)
خلاصہ:
قرآن مجید کے مطابق، زندگی کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے، جس میں اس کی معرفت حاصل کرنا، اس کے احکامات پر عمل کرنا، اور اس کی رضا کے کام کرنا شامل ہے۔ یہ عبادت اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے۔