Qur'an&Sunnah

قرآن صبر کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟

قرآن میں صبر کی اہمیت اور فضیلت

اسلام میں صبر کو ایک انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید صبر کی فضیلت اور اہمیت کو مختلف انداز میں بیان کرتا ہے۔ صبر کا مطلب ہے مشکلات اور آزمائشوں کے وقت اللہ کی رضا پر قائم رہنا، اپنے نفس کو قابو میں رکھنا اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرنا۔

قرآن میں صبر کی فضیلت:

قرآن مجید میں صبر کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (الانفال: 46) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے، جو ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

مزید برآں، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا وعدہ کرتا ہے: "یقیناً جو لوگ صبر کرتے ہیں، انہیں ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔" (الزمر: 10) یہ آیت صبر کے اجر کی وسعت کو بیان کرتی ہے، جو کسی گنتی یا اندازے سے بالاتر ہے۔

قرآن مجید میں صبر کو انبیاء کرام کی صفات میں سے ایک اہم صفت کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ہم نے ان میں سے امام بنائے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے، جب انہوں نے صبر کیا۔" (السجدہ: 24) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر، قیادت اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔

صبر کی اقسام اور اہمیت:

مفسرین اور علماء نے صبر کی مختلف اقسام بیان کی ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں:

  • فرائض کی ادائیگی پر صبر: اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں استقامت اختیار کرنا، جیسے نماز کی پابندی کرنا۔ (ابو طالب المکی، قوت القلوب، جلد 1، صفحہ 324-326)
  • محرمات سے اجتناب پر صبر: اللہ کی منع کردہ چیزوں سے بچنا، جیسے جھوٹ، غیبت اور حرام سے پرہیز کرنا۔ (ابو طالب المکی، قوت القلوب، جلد 1، صفحہ 324-326)
  • مصائب پر صبر: جب کوئی مصیبت آئے تو اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور بے صبری کا اظہار نہ کرنا۔ (ابو طالب المکی، قوت القلوب، جلد 1، صفحہ 324-326)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ صبر ایمان کا آدھا حصہ ہے۔ (الغزالی، احیاء العلوم الدین، جلد 4، صفحہ 60-61) حضرت علیؓ نے صبر کو ایمان کا ستون قرار دیا ہے اور اسے جہاد، عدل اور یقین کے ساتھ شمار کیا ہے۔ (ابو طالب المکی، قوت القلوب، جلد 1، صفحہ 328-330)

صبر اور دیگر عبادات:

صبر کو دیگر عبادات سے بھی گہرا تعلق ہے۔ روزہ کو صبر کا ایک حصہ یا آدھا صبر قرار دیا گیا ہے، کیونکہ روزہ نفس کو خواہشات سے روکتا ہے۔ (الغزالی، احیاء العلوم الدین، جلد 4، صفحہ 60-61) اسی طرح، مصائب کے وقت صبر کے ساتھ ساتھ نماز کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ نماز خشوع اور اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔ (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد 1، صفحہ 370-374)

نتیجہ:

قرآن مجید صبر کو ایک بنیادی فضیلت اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ یہ اللہ کی مدد، اجر عظیم، اور روحانی بلندی حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ صبر انسان کو دنیاوی مشکلات کا سامنا کرنے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔

مآخذ

جوابات صرف کلاسیکی عوامی مآخذ پر مبنی ہیں اور انہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ذاتی مسائل کے لیے کسی اہل عالم سے رجوع کریں۔

سوالات