رمضان المبارک کے روزوں کے احکام کے بارے میں آپ کے سوال کے جواب میں، اسلامی فقہ کی مستند کتب کی روشنی میں درج ذیل معلومات پیش خدمت ہیں:
روزے کی تعریف اور فرضیت: روزہ، جس کو عربی میں "صوم" کہتے ہیں، صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر مفطرات (روزہ توڑنے والی چیزیں) سے باز رہنے کا نام ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور قرآن و سنت سے اس کی فرضیت ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔" (سورۃ البقرہ: 183)۔ (مرغینانی، الہدایہ، جلد 1، صفحہ 126؛ نووی، منہاج الطالبین، صفحہ 35)
روزے کے فرض ہونے کی شرائط: روزہ فرض ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
- اسلام: مسلمان ہونا۔
- عقل: عاقل ہونا۔
- بلوغ: بالغ ہونا۔
- صحت: تندرست ہونا (مریض نہ ہونا)۔
- مقیم ہونا: مسافر نہ ہونا۔
- حیض و نفاس سے پاکی: عورتوں کے لیے حیض اور نفاس سے پاک ہونا۔ (نووی، منہاج الطالبین، صفحہ 35؛ ابن رشد، بدایۃ المجتہد، جلد 1، صفحہ 206؛ ابن قدامہ، المغنی، جلد 3، صفحہ 37)
روزے کے ارکان: روزے کے تین رکن ہیں جن پر روزہ کی صحت کا انحصار ہے:
- زمان (وقت): رمضان المبارک کا مہینہ۔
- الامساک (روکنا): صبح صادق سے غروب آفتاب تک مفطرات سے رکنا۔
- النیۃ (نیت): ہر روزے کے لیے دل سے نیت کرنا۔ (ابن رشد، بدایۃ المجتہد، جلد 1، صفحہ 206؛ غزالی، احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 231)
نیت کا حکم: رمضان المبارک کے فرض روزے کے لیے رات کو نیت کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص دن میں نیت کرے تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔ البتہ نفلی روزے کے لیے دن میں نیت کرنا بھی جائز ہے۔ (غزالی، احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 231؛ نووی، منہاج الطالبین، صفحہ 34)
مفطرات (روزہ توڑنے والی چیزیں): روزہ ان چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے جو عمداً (جان بوجھ کر) حلق سے نیچے پہنچائی جائیں، جیسے کھانا، پینا، دوا کا حلق سے اترنا، یا جماع کرنا۔ اگر کوئی شخص بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (غزالی، احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 232؛ نووی، منہاج الطالبین، صفحہ 34-35)
عذر کی بنا پر روزہ چھوڑنا: مریض، مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں اگر بیماری یا بچے پر خوف کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیں تو ان کے لیے رخصت ہے۔ وہ بعد میں قضاء کر سکتی ہیں۔ (ابن قدامہ، المغنی، جلد 3، صفحہ 37؛ ابن حجر، الام، جلد 2، صفحہ 102)
قضاء اور کفارہ: اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر توڑ دے تو اس پر قضاء کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔ کفارہ میں ایک مسلمان غلام آزاد کرنا، اگر یہ ممکن نہ ہو تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنا، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا شامل ہے۔ (نووی، منہاج الطالبین، صفحہ 36؛ ابن قدامہ، المغنی، جلد 3، صفحہ 38)
روزے کے آداب اور مستحبات: روزے کے دوران کچھ چیزیں مستحب ہیں، جیسے سحری کو مؤخر کرنا، افطاری میں جلدی کرنا، جھوٹ، غیبت اور دیگر گناہوں سے زبان اور اعضاء کو بچانا، کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور ذکر الٰہی میں مشغول رہنا۔ (نووی، منہاج الطالبین، صفحہ 35؛ غزالی، احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 232)