آپ نے زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا ہے، جو کہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ ایک نہایت اہم فریضہ ہے جس کے ذریعے معاشرے میں مالی توازن قائم ہوتا ہے اور غرباء و مساکین کی مدد کی جاتی ہے۔
زکوٰۃ کا لغوی اور شرعی معنی:
- لغوی معنی: زکوٰۃ کے لغوی معنی ہیں بڑھنا، نمو پانا، پاکیزگی اور تعریف۔ (عبد القادر جیلانی، سر الاسرار، ص 110؛ نووی، المنهاج، ج 7، ص 47)
- شرعی معنی: شرعی اصطلاح میں زکوٰۃ مال کے اس مقررہ حصہ کو کہتے ہیں جسے شریعت نے مقرر کیا ہے، اور اسے فقراء و مساکین جیسے مستحقین کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دیا جاتا ہے۔ (عبد القادر جیلانی، سر الاسرار، ص 110؛ شافعی، الام، ج 2، ص 81)
زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کی اہمیت:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ} (البقرۃ: 43) "اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔" (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج 1، ص 341)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔" (بخاری، کتاب الایمان، باب بنیان الاسلام)
زکوٰۃ کی ادائیگی نہ صرف مال کو پاک کرتی ہے بلکہ ادا کرنے والے کے گناہوں کا کفارہ بھی بنتی ہے۔ (نووی، المنهاج، ج 7، ص 47)
زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟
زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہے جو درج ذیل شرائط پوری کرتا ہو:
- مسلمان ہونا: زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر فرض ہے۔ (شافعی، الام، ج 2، ص 81)
- نصاب کے بقدر مال ہونا: زکوٰۃ کے لیے مال کا ایک مقررہ مقدار (نصاب) تک پہنچنا ضروری ہے۔ مختلف اموال کے نصاب مختلف ہیں۔
- سونے کا نصاب بیس مثقال ہے۔ (نووی، المنهاج، ج 7، ص 47)
- چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ (تقریباً دو سو درہم) ہے۔ (نووی، المنهاج، ج 7، ص 47؛ شافعی، الام، ج 2، ص 81)
- نقدی، مال تجارت، اور مویشی (اونٹ، گائے، بکری) کے لیے بھی نصاب مقرر ہیں۔ (نسائی، السنن، کتاب الزکاۃ)
- زرعی پیداوار میں، اگر بارش کے پانی سے سیراب ہو تو دسواں حصہ (العشر) اور اگر محنت سے سیراب ہو تو بیسواں حصہ (نصف العشر) واجب ہے۔ (نووی، المنهاج، ج 7، ص 47)
- حَول (سال) گزرنا: نقدی، سونا، چاندی اور مال تجارت پر سال گزرنا شرط ہے۔ البتہ زرعی پیداوار اور پھلوں میں سال گزرنا شرط نہیں، بلکہ فصل کی کٹائی کے وقت زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ (شافعی، الام، ج 2، ص 81؛ نسائی، السنن، کتاب الزکاۃ)
- مال کا نامی (بڑھنے والا) ہونا: یعنی ایسا مال جو بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جیسے سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت، اور مویشی۔ (عبد القادر جیلانی، سر الاسرار، ص 110)
- ضروریات سے زائد ہونا: زکوٰۃ اس مال پر فرض ہے جو شخص کی بنیادی ضروریات (رہائش، لباس، خوراک، قرضہ وغیرہ) سے زائد ہو۔ (شافعی، الام، ج 2، ص 64)
زکوٰۃ کے مستحقین:
قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ} (التوبۃ: 60) "صدقات تو صرف فقراء، مساکین، عاملین (زکوٰۃ جمع کرنے والے)، مؤلفۃ القلوب (جن کے دلوں کو اسلام کے ساتھ جوڑا جائے)، غلاموں کی آزادی، قرض داروں، اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والے) اور مسافروں کے لیے ہیں۔" (القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج 1، ص 341)
یہ زکوٰۃ کے بارے میں ایک مختصر تعارف ہے۔ اگر آپ کسی خاص پہلو کے بارے میں مزید جاننا چاہیں تو بلا جھجھک پوچھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔