Qur'an&Sunnah

اسلام موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟

اسلام میں موت کے بعد کی زندگی پر گہرا یقین رکھا جاتا ہے، جسے آخرت کہا جاتا ہے۔ یہ زندگی اس دنیا کی زندگی کا تسلسل ہے اور اس میں جزا و سزا شامل ہے۔ اس عقیدے کے مطابق، انسان کی موت کے بعد اس کی روح کو ایک خاص حالت میں رکھا جاتا ہے اور قبر میں اس سے سوالات کیے جاتے ہیں۔

قبر کا سوال و جواب: جب ایک مومن فوت ہو جاتا ہے، تو اس کی روح اس کے جسم میں واپس لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے (منکر و نکیر) اس سے قبر میں سوال کرتے ہیں۔ ان سوالات میں اس کا رب، اس کا دین اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ اگر وہ مومن ہوتا ہے تو وہ صحیح جواب دیتا ہے، جس پر آسمان سے پکارا جاتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا فرش بچھاؤ اور جنت کا لباس پہناؤ۔ اس کی قبر وسیع کر دی جاتی ہے اور اسے جنت کی خوشبو آتی ہے۔ (عبدالقدیر جیلانی - الغنیۃ، جلد 1، صفحہ 143-145؛ ابن کثیر - تفسیر القرآن العظیم، جلد 4، صفحہ 501-502؛ بغوی - معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 350-352؛ طبری - جامع البیان، جلد 13، صفحہ 657؛ ابن ماجہ - سنن، جلد 2، صفحہ 1425-1427)

اس کے برعکس، جب کافر فوت ہوتا ہے، تو فرشتے اس سے سوال کرتے ہیں اور وہ جواب نہیں دے پاتا۔ اس پر آسمان سے پکارا جاتا ہے کہ میرے بندے نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بستر بچھاؤ اور جہنم کا لباس پہناؤ۔ اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے اور اسے جہنم کی گرمی اور تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ (عبدالقدیر جیلانی - الغنیۃ، جلد 1، صفحہ 143-145؛ ابن کثیر - تفسیر القرآن العظیم، جلد 4، صفحہ 501-502؛ بغوی - معالم التنزیل، جلد 4، صفحہ 350-352؛ طبری - جامع البیان، جلد 13، صفحہ 657؛ ابن ماجہ - سنن، جلد 2، صفحہ 1425-1427)

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} (ابراہیم: 27) یعنی "اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی مضبوط قول (یعنی کلمہ حق) پر قائم رکھتا ہے۔" (ابن کثیر - تفسیر القرآن العظیم، جلد 4، صفحہ 501-502؛ طبری - جامع البیان، جلد 13، صفحہ 655-657؛ ابن ماجہ - سنن، جلد 2، صفحہ 1425-1427)

قبر کا عذاب اور نعمت: اسلام قبر کے عذاب اور نعمت دونوں کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ عذاب یا نعمت مومن اور کافر کے اعمال کے مطابق ہوتی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ مومن کے لیے قبر وسیع اور پرسکون ہو جاتی ہے، جبکہ کافر کے لیے وہ تنگ اور عذاب کا مقام بن جاتی ہے۔ (ابو طالب المکی - قوت القلوب، جلد 2، صفحہ 210-211؛ ابن ماجہ - سنن، جلد 2، صفحہ 1425-1427)

قیامت اور حشر: موت کے بعد کی زندگی میں قیامت کا دن بھی شامل ہے، جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اس دن سب کو اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے مطابق انہیں جنت یا جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ (ابو طالب المکی - قوت القلوب، جلد 2، صفحہ 210-211)

اللہ کا دیدار: مومنوں کے لیے آخرت میں سب سے بڑا انعام اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ قرآن پاک میں ہے: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} (یونس: 26) یعنی "جنہوں نے نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید بھی۔" یہاں "زیادہ" سے مراد اللہ کا دیدار ہے۔ (ابو طالب المکی - قوت القلوب، جلد 2، صفحہ 210-211)

یہ تمام تفصیلات اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہیں اور مسلمانوں کو دنیا میں نیک اعمال کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

مآخذ

جوابات صرف کلاسیکی عوامی مآخذ پر مبنی ہیں اور انہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ذاتی مسائل کے لیے کسی اہل عالم سے رجوع کریں۔

سوالات