Qur'an&Sunnah

مسلمان انبیاء کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟

آپ کا سوال بہت اہم ہے اور اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک سے متعلق ہے۔ مسلمان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی تکریم کرتے ہیں۔ اس بارے میں تفصیلی معلومات درج ذیل ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں:

انبیاء کرام (علیہم السلام) کا اصل پیغام اور دین:

تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دین دیا گیا، اس کی اصل بنیاد توحید یعنی اللہ کی وحدانیت اور اس کی عبادت تھی۔ اگرچہ ان کی شریعتیں (عبادات اور احکام) مختلف تھیں، لیکن دین کا اصل اصول ایک ہی تھا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی کرتے تھے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔" (الأنبياء: 25) (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: "اگر تم پھر جاؤ تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا، میرا اجر تو اللہ پر ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔" (يونس: 72) (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا گیا: "جب ان کے رب نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ، تو انہوں نے کہا کہ میں رب العالمین کے سامنے اسلام لایا۔ اور ابراہیم نے اسی کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی (کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، پس تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔)" (البقرة: 131-132) (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی: "اے میرے رب! تو نے مجھے سلطنت عطا کی اور مجھے باتوں کی تعبیر سکھائی۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی میرا کارساز ہے دنیا اور آخرت میں۔ مجھے (وفات کے وقت) مسلمان اٹھانا اور مجھے نیکوکاروں کے ساتھ ملا دینا۔" (يوسف: 101) (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا: "اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔" (يونس: 84) (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

اسی طرح، تورات اور انجیل کے بارے میں بھی ذکر ہے کہ وہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کے ذریعے نازل ہوئیں جنہوں نے اسلام کی دعوت دی۔ (المائدة: 44) (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا آپس میں تعلق:

یہ تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) ایک ہی دین کے پیروکار تھے، جس طرح ایک باپ کے مختلف بیویوں سے پیدا ہونے والے بچے آپس میں بھائی ہوتے ہیں، اسی طرح یہ سب دین کے اعتبار سے بھائی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہم انبیاء کرام کی جماعت کا دین ایک ہی ہے۔" (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 3، صفحہ 381-382)

انبیاء کرام (علیہم السلام) کی بشریت:

یہ بات بھی واضح ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) اللہ کے منتخب بندے تھے، لیکن وہ انسان تھے، فرشتے نہیں۔ وہ کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور ہم نے ان (انبیاء) کو ایسا جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے۔" (الأنبياء: 8) (طبری، جامع البیان، جلد 16، صفحہ 227-230)

رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور سابقہ انبیاء سے تعلق:

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی نازل کی، جیسے کہ آپ سے پہلے کے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی طرف وحی نازل کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی جس طرح نوح اور ان کے بعد والے انبیاء کی طرف وحی بھیجی تھی۔" (النساء: 163) (طبری، جامع البیان، جلد 7، صفحہ 679-686)

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) سے یہ عہد لیا تھا کہ جب ان کے بعد کوئی رسول مبعوث ہوگا جو ان کی لائی ہوئی کتابوں کی تصدیق کرے گا، تو وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی مدد کریں گے۔ (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 2، صفحہ 468-469) اور (رازی، مفاتیح الغیب، جلد 8، صفحہ 101)

خلاصہ:

مسلمان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کو اللہ کا بھیجا ہوا مانتے ہیں، ان سب کے دین کی اصل بنیاد توحید تھی، اگرچہ ان کی شریعتیں مختلف تھیں۔ وہ سب آپس میں بھائیوں کی طرح تھے اور سب سے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انسانیت کے لیے رسول بنا کر بھیجا، جو پچھلی تمام شریعتوں کی تصدیق کرنے والے اور ان کی تکمیل کرنے والے ہیں۔

مآخذ

جوابات صرف کلاسیکی عوامی مآخذ پر مبنی ہیں اور انہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ ذاتی مسائل کے لیے کسی اہل عالم سے رجوع کریں۔

سوالات