آپ کا سوال توحید کے بارے میں ہے، جو کہ اسلام کا سب سے بنیادی عقیدہ ہے۔ اللہ کی وحدانیت پر ایمان، یعنی یہ یقین کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ یہ عقیدہ اسلام کی بنیاد ہے۔
توحید کی تعریف اور اس کی اہمیت:
توحید کا مطلب ہے اللہ کو ایک جاننا۔ یہ صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں، بلکہ دل سے اس کی تصدیق کرنا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔
-
ابو طالب المکی اپنی کتاب "کتب القلوب" میں فرماتے ہیں کہ توحید کا فرض ہونا سب سے پہلے مومنین پر ہے، اور یہ مقربین اور رسول اللہ ﷺ کی گواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "فاعلم أنه لا إله إلا الله واستغفر لذنبك" (محمد: 19) یعنی "پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کے لیے استغفار کرو۔" (کتب القلوب، جلد 2، صفحہ 135-136)۔ توحید کا مطلب ہے دل سے یہ یقین رکھنا کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی عدد نہیں، وہ اول ہے جس کا کوئی ثانی نہیں، موجود ہے جس میں کوئی شک نہیں، عالم ہے جس میں کوئی جہل نہیں، قادر ہے جس میں کوئی عجز نہیں، زندہ ہے جس کو موت نہیں، قیوم ہے جو غافل نہیں، حلیم ہے جو سفیہ نہیں، سمیع و بصیر ہے، اس کا ملک زائل نہیں ہوتا، وہ قدیم ہے بغیر وقت کے، آخر ہے بغیر حد کے، اور اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (کتب القلوب، جلد 2، صفحہ 135-136)۔
-
امام غزالی "احیاء العلوم الدین" میں توحید کی تین سطحیں بیان کرتے ہیں:
- زبانی توحید: صرف زبان سے "لا الہ الا اللہ" کہنا۔ یہ منافق کا توحید بھی ہو سکتا ہے جو دل میں یقین نہ رکھے۔ (احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 32-33)۔
- قلبی توحید: دل سے اس بات پر یقین رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا۔ یہ عام مسلمانوں کی توحید ہے۔ (احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 32-33)۔
- حقیقی توحید (لباب): یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو ہر چیز اللہ کی طرف سے نظر آتی ہے، اور وہ اللہ کی عبادت میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ کے سوا کسی اور کا خیال نہیں آتا۔ یہ صدیقین کا مقام ہے۔ (احیاء العلوم الدین، جلد 1، صفحہ 32-33)۔
توحید کی مختلف مراتب:
-
عبد الرحمن جامی اپنی کتاب "نفحات الانس" میں توحید کے چار مراتب بیان کرتے ہیں:
- توحید ایمانی: یہ وہ توحید ہے جس میں بندہ اللہ کی الوہیت اور معبودیت کے استحقاق میں اس کی تفرد اور وحدت کی گواہی دیتا ہے، اور زبان سے اقرار کرتا ہے۔ یہ شرک جلی سے بچاتا ہے۔ (نفحات الانس، صفحہ 22)۔
- توحید علمی: اس میں بندہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ حقیقی موجود اور مؤثر صرف اللہ کی ذات ہے۔ وہ تمام ذوات، صفات اور افعال کو اللہ کی ذات، صفات اور افعال کے مقابلے میں ناچیز سمجھتا ہے۔ (نفحات الانس، صفحہ 22)۔
- توحید حالی: اس میں توحید کی کیفیت بندے کی ذات کا لازمہ بن جاتی ہے۔ وجود کی تمام ظلمتیں توحید کے نور میں فنا ہو جاتی ہیں۔ بندہ اللہ کے جمال میں اتنا مستغرق ہو جاتا ہے کہ اسے سوائے اللہ کے کچھ نظر نہیں آتا۔ (نفحات الانس، صفحہ 23)۔
- توحید الٰہی: یہ سب سے بلند مرتبہ ہے۔
-
امام رازی "مفاتیح الغیب" میں توحید کے چار مراتب ذکر کرتے ہیں:
- زبان سے اقرار۔
- دل سے یقین۔
- حجت اور دلیل سے اس یقین کی تائید۔
- بندہ توحید کے بحر میں اس طرح گم ہو جائے کہ اس کے دل میں اللہ کے سوا کسی اور کا خیال نہ آئے۔ (مفاتیح الغیب، جلد 22، صفحہ 8-9)۔
توحید کی اقسام اور غلط فہمیاں:
- امام ماتریدی اپنی کتاب "کتاب التوحید" میں مختلف ادیان و فرقوں کے توحید کے نظریات کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی ذات، صفات اور افعال میں کوئی شریک نہیں، اور اللہ کی وحدت ایسی ہے کہ اس کی ذات میں کوئی مثال ممکن نہیں۔ (کتاب التوحید، جلد 1، صفحہ 118-120)۔
- شیخ الاسلام ابن حجر "فتح الباری" میں فرماتے ہیں کہ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ایک ہے، اور بعض غالی صوفیاء نے توحید کی ایسی تشریحات کیں جو غلط فہمی کا شکار ہوئیں، جیسے وحدت الوجود کا عقیدہ۔ (فتح الباری، جلد 13، صفحہ 347)۔
- امام قشیری اپنی کتاب "الرسالہ" میں شیوخ طریقت کے عقائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کا توحید کا عقیدہ سلف صالحین اور اہل سنت کے مطابق ہے، جس میں نہ تمثیل (تشبیہ) ہے اور نہ تعطیل (انکار)۔ (الرسالہ، جلد 1، صفحہ 10-12)۔ وہ اللہ کی صفات کو اس کی ذات سے مختص قرار دیتے ہیں، جو ازلی اور سرمدی ہیں۔ اللہ جسم، جوہر، عرض، یا ان کی صفات سے متصف نہیں ہے۔ وہ وقت اور زمان سے پاک ہے۔ (الرسالہ، جلد 1، صفحہ 18-20)۔
توحید کا اصل مقصد اللہ کی عظمت کو پہچاننا، اس کی وحدانیت پر یقین رکھنا، اور صرف اسی کی عبادت کرنا ہے۔ یہ اسلام کا سب سے اہم ستون ہے۔